Tuesday, September 2, 2014

موبائل فون سے کمپیوٹر شٹ ڈاؤن کریں


موبائل فون سے کمپیوٹر شٹ ڈاؤن کریں
رات گئے کمپیوٹر پر کام کرنا اکثر لوگوں کا معمول بن چکا ہے۔ نیند آنے پر سونے کا ارادہ کرتے ہوئے کمپیوٹر کو آف کرنے لگیں تو یاد آتا ہے کہ ڈاؤن لوڈنگ جاری ہے۔ کمپیوٹر شٹ ڈاؤن کر دیا تو ڈاؤن لوڈنگ بیچ میں رُک جائے گی اور اگر جاگتے رہے تو نیند کی کمی۔ کمپیوٹر کو اب رات بھر کے لیے آن بھی نہیں چھوڑ سکتے کیونکہ اس طرح بجلی غیر ضروری استعمال ہوتی رہے گی۔
ویسے تو کمپیوٹر کو آٹو شٹ ڈاؤن کرنے کے کئی سافٹ ویئر موجود ہیں اور ڈاؤن لوڈ منیجرز میں بھی آٹو شٹ ڈاؤن کا آپشن موجود ہوتا ہے لیکن ہم جس سافٹ ویئر کا ذکر کرنے جا رہے ہیں  اس میں کئی اضافی اور مفید فیچرز شامل ہیں۔
اس کا سب سے بنیادی فیچر منتخب کردہ ٹائم پر کمپیوٹر کو شٹ ڈاؤن کرنا ہے۔
Add event کے بٹن پر کلک کر کے اس کے مزید آپشنز دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس میں ایک کاؤنٹ ڈاؤن ٹائمر بھی موجود ہے جو کسی الارم کی طرح کام کرتا ہے کہ ٹائمر چلنا شروع ہو جاتا ہے اور مقررہ وقت پر کمپیوٹر کو شٹ ڈاؤن یا جو بھی ایکشن آپ نے منتخب کیا ہے، وہ چلا دیتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی اس میں چند دلچسپ آپشنز موجود ہیں جیسا کہ اگر لیپ ٹاپ کی بیٹری ختم ہونے والی ہو، کوئی ونڈو بند ہو جائے یا کوئی مخصوص پراسیس اگر ختم ہو جائے، پِنگ (ping) آنا بند ہو جائے تو کمپیوٹر شٹ ڈاؤن ہو جائے۔
اس پروگرام کے ذریعے آپ اپنے کمپیوٹر تک ریموٹ ایکسس بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ فرض کریں آپ کا کمپیوٹر دوسرے کمرے میں آن ہے اور آپ بستر پر لیٹے ہیں تو اب ضروری نہیں کہ کمپیوٹر پر کیا چل رہا ہے یہ دیکھنے کے لیے کمپیوٹر کے پاس جانا پڑے۔ کیونکہ کمپیوٹر کو اب ویب براؤزر سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے اپنے فون پر براؤزر میں کمپیوٹر کی آئی پی بمع پورٹ ٹائپ کریں مثلاً:
http://192.168.1.101:808
چونکہ ہم نے یوزر نیم اور پاس ورڈ بنایا تھا اس لیے پہلے یہ معلومات فراہم کرنی ہوں گی۔ اس کے بعد آپ کو آپشن دکھائے جائیں گے۔
12
یہاں ایک اور بہت ہی مفید آپشن Screenshot of a Desktop کے نام سے موجود ہے۔ اس پر کلک کرنے سے آپ کو ڈیسک ٹاپ کا اسکرین شاٹ بنا کر دکھایا جائے گا۔ جس سے آپ جان سکیں گے کہ اس وقت کمپیوٹر پر کیا کام ہو رہا ہے۔
13اس کے علاوہ Information on Computer پر کلک کر کے دیکھا جا سکتا ہے کہ اس وقت کمپیوٹر پر کون کون سے پراسیسز چل رہے ہیں۔ جس سے اس بات کا باآسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کمپیوٹر پر ہمارا چلتا کام مکمل ہو چکا ہے یا ابھی باقی ہے۔
اس سافٹ ویئر کو کمانڈ لائن سے بھی کنٹرول کیا جا سکتا ہے جس میں کئی اضافی آپشنز موجود ہوتے ہیں۔ اس سافٹ ویئر کا بنیادی کام کمپیوٹر کو کہیں اور بیٹھے شٹ ڈاؤن کرنا ہے اس لیے اس میں یہ ریموٹلی ایکسس کرنے کا آپشن شامل ہے۔ چونکہ اسے ویب براؤزر سے کنٹرول کیا جاتا ہے اس لیے آپ موبائل فون یا کسی بھی دوسرے پی سی سے اپنے کمپیوٹر کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔
(مکمل تحریر پڑھنے کے لیے کمپیوٹنگ شمارہ ستمبر 2013 ملاحظہ کیجیے)

ٹروکالر ایپلی کیشن کیسے کام کرتی ہے؟

ٹروکالر ایپلی کیشن کیسے کام کرتی ہے؟
پہلی دفعہ جب ’’ٹرو کالر‘‘ (Truecaller) ایپلی کیشن کے بارے میں سنا تو بڑی حیرت ہوئی۔ کیونکہ اپنے دعووں کے اعتبار سے یہ ایک حیرت انگیز ایپلی کیشن ہے۔ وہ اس طرح کہ کوئی ایسا نمبر جو آپ کی فون بک میں موجود نہ ہو، اس نمبر سے کال آنے پر بھی کال کرنے والے کا نام لکھا آرہا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کا سب سے حیرت انگیز فیچر اس کے ذریعے نمبر تلاش کرنا ہے۔ یعنی آپ کسی کا بھی نام لکھ کر اُس کا نمبر تلاش کر سکتے ہیں۔
ٹرو کالر اپنے آپ کو ’’گلوبل فون ڈائریکٹری‘‘ کہتی ہے۔ یہ ایپلی کیشن ایک سویڈش کمپنی کی بنائی ہوئی ہے۔ جس کے پاس کئی ممالک کے فون نمبرز (موبائل اور لینڈ لائن) کا بہت بڑا ڈیٹا بیس موجود ہے۔ ان میں پاکستان، انڈیا، سویڈن، ناروے، ڈنمارک، لبنان، کویت اردن کے علاوہ کئی ممالک شامل ہیں۔ ٹروکالر کا کہنا ہے کہ یہ ڈیٹا بیس پبلک ذرائع جیسے کہ یلو /وائٹ پیجز، او ایل ایکس اور دیگر ویب سائٹس سے پارٹنر شپ کے تحت حاصل کیے گئے نمبرز سے بنایا گیا ہے۔ او ایل ایکس ہو، جابز حاصل کرنے والی ویب سائٹس یا دیگر آن لائن فورمز لوگوں نے سب جگہ اپنی تفصیلات خود ہی ڈالنا شروع کر رکھی ہیں۔ اس لیے ٹروکالر کا کہنا ہے کہ وہ ڈیٹا اسکرپنگ کے ذریعے آن لائن ذرائع سے یہ نمبر تلاش کر کے اپنے ڈیٹا بیس میں شامل کرتے ہیں۔ کسی حد تک یہ بات درست بھی ہے۔
جب آپ کسی کا بھی نام لکھ کر اس کا نمبر تلاش کر سکتے ہوں، نامعلوم نمبرز سے آنے والی کالز پر بھی پتا چل جائے کہ نمبر کس کا ہے، اسپیم کالز سے آپ بچ سکیں گے اور اپنی بلیک لسٹ بنا کر کالز بلاک بھی کر سکیں۔ سب سے بڑھ کر ایپلی کیشن مفت ہو اسے کون استعمال نہیں کرے گا؟
یہ ایپلی کیشن آئی او ایس، اینڈرائیڈ، ونڈوز ، سیمبیان اور بلیک بیری فونز کے لیے دستیاب ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ایپلی کیشن انتہائی مشہور ہوئی اور آج اس کے کروڑوں صارفین ہیں۔ صارفین کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کا ڈیٹا بیس بھی وسیع تر ہوتا گیا جس نے پرائیویسی کے شدید خدشات پیدا کر دیے۔ انڈیا میں تو کئی بڑے اور مشہور لوگوں کے نمبرز اس کے ذریعے منظر عام پر آئے۔
اگرچہ اس کے فری ورژن میں سب کچھ موجود ہے لیکن اس ایپلی کیشن کے مکمل فیچرز استعمال کرنے کے لیے لوگوں نے اسے خریدنا بھی شروع کر دیا۔ اس کی مانگ اتنی بڑھی کہ ایپل کے ایپلی کیشن اسٹور پر پریمیئم ایپلی کیشنز کی لسٹ میں یہ پہلے نمبر پر آ گئی۔ اپنے ان مشکوک فیچرز کی بنا پر ایپلی کیشن بنانے والی کمپنی مالا مال ہو گئی۔
ٹروکالر نے نمبر سے نام تلاش کرنے کا فیچر اپنی ویب سائٹ پر بھی فراہم کر رکھا ہے۔
www.truecaller.com
truecaller-find-number
اس کی ویب سائٹ پر جا کر آپ کوئی بھی نمبر لکھ کر دیکھ سکتے ہیں کہ یہ کس کا نمبر ہے۔ اگر نمبر اس کے ڈیٹا بیس میں موجود ہوا تو آپ کو بتا دیا جائے گا۔ نمبر دیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ ان کی ویب سائٹ پر بذریعہ فیس بک، یاہو، گوگل، ٹوئٹر یا لنکڈاِن لاگ اِن ہوں۔

ٹرو کالر ڈیٹا بیس کیسے بنایا گیا؟

جب آپ اس کے ڈیٹا بیس میں اپنا اور اپنے دوستوں کا نمبر دیکھیں گے تو ضرور سوچیں گے کہ ہمارا نمبر تو کہیں آن لائن موجود نہیں پھر اس کے ڈیٹا بیس میں کیسے آیا؟ ٹرو کالر کی جانب سے تو صفائیاں پیش کی جاتی ہیں کہ یہ کوئی غیر قانونی ذریعہ استعمال نہیں کرتے لیکن عام خیال ہے کہ ممکنہ طور پر یہ ایپلی کیشن فون پر انسٹال ہونے کے بعد مکمل فون بُک کو اپنے سرور پر اپ لوڈ کر دیتی ہے۔
چونکہ لوگ دوسروں کے نمبر حاصل کرنا چاہتے ہیں، اسپیم کالز سے بچنا چاہتے ہیں اس لیے ہر آئے دن اس ایپلی کیشن کے صارفین کی تعداد میں ہزاروں کا اضافہ ہو رہا ہے۔ جس سے اس کا ڈیٹا بیس نہ صرف تیزی سے بڑھ رہا ہے بلکہ درست بھی ہو رہا ہے۔ جب ایک نمبر کئی لوگوں کے پاس ایک ہی نام سے محفوظ ہوتا ہے تو اس کا سسٹم جان لیتا ہے کہ یہ فون نمبر کس کا ہے۔ یہی طریقہ استعمال کرتے ہوئے آج ’’ٹروکالر‘‘ واقعی ایک بہت بڑی گلوبل فون ڈائریکٹری بن چکی ہے۔
اگر کسی کی فون بک میں آپ کا نمبر محفوظ ہے اور وہ یہ ایپلی کیشن انسٹال کرتا ہے تو ٹروکالر کے پاس آپ کا نام اور نمبر موجود ہے۔ یعنی آپ یہ ایپلی کیشن استعمال کریں نہ کریں، اس کے ڈیٹا بیس میں آپ کا نمبر ہو سکتا ہے۔
آپ کسی کو کال کرتے ہوئے یہ نہیں سوچ سکتے کہ آپ نامعلوم رہیں گے۔ اس کے علاوہ آپ اپنا نمبر بھی محفوظ نہیں رکھ سکتے۔ کوئی بھی یہ ایپلی کیشن استعمال کرتے ہوئے آپ کا نمبر تلاش کر سکتا ہے۔ اس ایپلی کیشن کے کام کرنے کا یہ طریقہ کار سب کی پرائیویسی کے لیے شدید خطرہ بن چکا ہے۔
چونکہ لوگوں نے دوسروں کے نام یاددہانی یا اپنی آسانی کی خاطر مختلف ناموں سے محفوظ کر رکھے ہوتے ہیں اس لیے ایسے نمبرز تلاش کرنے پر ویسا ہی نام آتا ہے مثلاً اسلم انکل، علی کمپیوٹنگ وغیرہ۔ اس بات سے یہ گمان پختہ ہو جاتا ہے کہ یہ ایپلی کیشن لوگوں کی فون بک چوری کرنے میں مصروف ہے۔
ٹروکالر صرف فون بک ہی نہیں کئی طرح سے لوگوں کا ڈیٹا ہتھیانے میں مصروف ہے۔ مثلاً پہلی دفعہ ایپلی کیشن استعمال کرتے ہوئے خود کو ویری فائی کروانا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ کہتے ہیں کہ اگر ٹروکالر ڈائریکٹری میں آپ کا نام درست نہیں آرہا تھے اسے آپ اس یورآر ایل پر جا کر درست کرنے کی درخواست ارسال کر سکتے ہیں:
www.truecaller.com/name-suggestion
یعنی ان کاڈیٹا بیس درست کرنے میں خود ان کی مدد کریں!
truecaller_com_name-suggestion
اس کے علاوہ اگر آپ ان کی ڈائریکٹری سے اپنا نمبر حذف کرانا چاہیں تو یہاں درخواست دے سکتے ہیں:
www.truecaller.com/unlist
truecaller-unlist-number
اس کے علاوہ ٹروکالر پر پروفائل بھی بنائی جا سکتی ہے۔ اس طرح اگر کوئی آپ کے نام سے تلاش کر کے نمبر حاصل کرنا چاہے تو پہلے آپ کی اجازت درکار ہو گی۔ آپ بھی دیکھ سکتے ہیں کہ کتنے لوگوں نے آپ کی پروفائل دیکھی۔ اس کے علاوہ فیس بک کی طرح یہ آپ کو وہ لوگ بھی دکھاتا ہے جن کو آپ شاید جانتے ہوں۔ اس طرح آپ ان سے بھی رابطہ قائم کر سکتے ہیں۔

اختتامیہ

اس ری ویو کا مقصد آپ کو اس مشکوک ایپلی کیشن کے کام کرنے کا طریقہ کار واضح کرنا تھا۔ کچھ عرصہ پہلے ٹروکالر کے سرور پر ہیکرز کا حملہ بھی ہو چکا ہے۔ ہیکرز نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے ٹروکالر کے سرور سے چار جی سے زائد ڈیٹا چُرا لیا ہے جس میں لوگوں کے فون نمبرز کے ساتھ ساتھ ای میل اور فیس بک اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی موجود ہیں۔ اس لیے بہتر ہے کہ نہ اس ایپلی کیشن کو خود انسٹال کریں اور نہ ہی دوسروں کو مشورہ دیں۔ ایک دوسرے کی پرائیویسی کا احترام ہم سب پر فرض ہے۔

کریڈٹ کارڈ فراڈ کیسے ہوتے ہیں


کریڈٹ کارڈ فراڈ کیسے ہوتے ہیں
کریڈٹ کارڈ فراڈ ہر سال اربوں ڈالر نقصان کا باعث بنتے ہیں۔
کریڈٹ کارڈ ایک عالمی حیثیت رکھتے ہیں اور دنیا کے ہر کونے میں قابلِ قبول ہیں۔ امریکا کے کسی بینک کا جاری کردہ کریڈٹ کارڈ کراچی میں استعمال کیا جا سکتا ہے اور پاکستان کے کسی بھی شہر میں موجود کسی بینک سے بنوایا گیا کریڈٹ کارڈ یورپ ہو یا امریکا، کہیں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کریڈٹ کارڈ حاصل کرنے کے لیے کسی بینک کا اکاؤنٹ ہولڈر ہونا بھی ضروری نہیں، بلکہ اپنی مالی حیثیت کے اعتبار سے اسے باآسانی حاصل کیا جا سکتا ہے ( یہ اور بات ہے کہ ہر کریڈٹ کارڈ کے لئے بینک اندرونی طور پر ایک بینک اکائونٹ بنا تا ہے)۔
کریڈٹ کارڈ دراصل ایک فوری نوعیت کا ’’قرضہ‘‘ ہوتا ہے جو کہ بینک آپ کو دیتا ہے۔ بینک آپ کی طرف سے رقم کی ادائیگی کرتا ہے اور آپ پھر یہ رقم بینک کو واپس ادا کرتے ہیں۔ اگر آپ بینک کے مقرر کردہ وقت (جو 20 سے 55 دنوں تک ہوسکتا ہے) کے دوران رقم کی ادائیگی کردیتے ہیں تو بینک آپ سے کوئی سود طلب نہیں کرتا۔ لیکن اگر رقم کی ادائیگی مقررہ وقت کے دوران نہیں ہوتی تو بینک اپنی دی ہوئی رقم پر سود (مارک اَپ ) بھی طلب کرتا ہے۔ عام طور پر یہی دیکھا گیا ہے کہ یہ سود عام قرضے کے مقابلے میں خاصا زیادہ ہوتا ہے۔
اپنے اجراء سے لے کر آج تک کریڈٹ کارڈ کی مقبولیت میں دن بدن اضافہ ہوا ہے۔ اس کی وجہ اس کی بے شمار سہولیات ہیں۔ کریڈٹ کارڈ سے آپ آن لائن شاپنگ کے علاوہ دیگر کئی کام لے سکتے ہیں۔ روزمرہ کی زندگی میں ریستوران، شاپنگ سنٹر، اسپتال، پیٹرول پمپ، اسٹورز وغیرہ سے خریداری کے بعد کریڈٹ کارڈ سے ادائیگی کر سکتے ہیں۔ بڑی رقم کو اپنے ساتھ لے کر گھومنا ایک خطرناک کام ہے اس لئے کریڈٹ کارڈز بڑی رقوم کی ادائیگی کے لئے بھی باکثرت استعمال ہوتے ہیں۔
کریڈٹ کارڈ کی دو قسمیں زیادہ مقبول ہیں، ایک ماسٹر کارڈ اور دوسرا ویزا کارڈ۔ یہ بنیادی طور پر نیٹ ورکس ہیں جو کہ رقوم کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی کا کام کرتے ہیں۔ ایسے دیگر نیٹ ورکس میں امریکن ایکسپریس ، ڈسکوری اور یونین پے بھی خاصے معروف ہیں۔
یہ کریڈٹ کارڈز چونکہ آسان اور فوری قرضہ فراہم کرتے ہیں جسے مقررہ دِنوں میں واپس کرنے پر کوئی مارک اَپ بھی نہیں دینا ہوتا یا اسے آسان اقساط میں ادا کیا جاسکتا ہے،اس لئے لوگوں نے بے دریغ کریڈٹ کارڈ بنوانے شروع کر دیے۔ بٹوے میں کریڈٹ کارڈ کی موجودگی اطمینان کا باعث ہوتی ہے کہ آپ کے پاس پیسے ہوں نہ ہوں کریڈٹ کارڈ موجود ہے جس سے آپ ہزاروں روپے کی خریداری یا ادائیگی کر سکتے ہیں۔
کریڈٹ کارڈ پاکستان میں بھی انتہائی مقبول ہے اس کے علاوہ آن لائن خریداری کا عمل بھی ہمارے ہاں جاری ہے۔ اپنے کریڈٹ کارڈ سے آپ باآسانی بیرون ممالک سے بھی اشیاء پاکستان منگوا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کے تقریباً تمام چھوٹے بڑے شہروں میں کریڈٹ کارڈ کے ذریعے ادائیگی قبول کرنے والے ہزاروں مرچنٹس بھی موجود ہیں۔
پیسوں کا لین دن سب ایک الیکٹرانک کارڈ کے ذریعے ہو رہا ہو تو بھلا ہیکرز کی رال کیوں نہیں ٹپکے گی…؟؟ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہیکرز کیسے کریڈٹ کارڈ سے فائدہ اُٹھاتے ہیں بلکہ کریڈٹ کارڈ چوری کیسے کرتے ہیں؟
کسی کریڈٹ کارڈ کا گم یا چوری ہونا یا مرچنٹ کے پاس بھول آنا ایک غیر معمولی بات ہے اور یہ واقعہ بہت کم پیش آتا ہے۔ ویسے بھی کارڈ کی گمشدگی کے فوراً بعد صاحبِ کارڈ اسے بلاک کروا دیتے ہیں اس لیے اس سے نقصان کا اندیشہ ختم ہو جاتا ہے۔لیکن اگر ایسا ہی ہے تو پھر کیسے ہیکرز نے آج تک کریڈٹ کارڈز کے ذریعے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں ڈالر کے فراڈز کیے ہیں؟ جبکہ مزیدار بات یہ ہے کہ ہیکر کسی کا کریڈٹ کارڈ استعمال کرتے ہوئے ہزاروں روپے کی خریداری کر جاتے ہیں لیکن کریڈٹ کارڈ مالک کو یہ نقصان برداشت نہیں کرنا پڑتا۔ تو پھر نقصان کس کا ہوتا ہے؟
کریڈٹ کارڈ دھوکے بازیوں کی بات کی جائے تو اس کا سب سے زیادہ نشانہ بننے والا ملک امریکا ہے۔ امریکن شہری ہر چھوٹی بڑی خریداری کے لیے تقریباً کریڈٹ کارڈ ہی استعمال کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہیکرز کا نشانہ بھی زیادہ بنتے ہیں۔ جیب میں پیسے رکھنے کی بجائے اگر آپ ایک مقناطیسی پٹی پر انحصار کرنا شروع کر دیں گے، جو کہ باآسانی کاپی بھی کی جا سکتی ہو تو چالاک ہیکرز کا نشانہ بننا کوئی بڑی بات نہیں۔

کریڈٹ کارڈ واردات کا طریقہ کار

سب سے پہلے کریڈٹ کارڈ صارف سوچتا ہے کہ آخر اس کا کریڈٹ کارڈ کوئی دوسرا کیسے استعمال کر سکتا ہے کیونکہ کارڈ تو ہر وقت ان کے بٹوے میں موجود ہوتا ہے۔ اگر آپ بھی آج تک یہی سوچتے رہے ہیں تو یقین جانیں آپ بہت ہی بھولے ہیں۔ ایک کریڈٹ کارڈ سے آن لائن خریداری کے لیے آپ کو تین چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے کریڈٹ کارڈ کا نمبر، اس کی تاریخ تنسیخ یا ایکسپائری ڈیٹ اور سی وی وی (Card Verification Value) نمبر۔اس کے علاوہ بعض اوقات نام اور پتا بھی درکار ہوتا ہے۔
cvv_code
تین اعداد پر مشتمل سی وی وی کوڈ انتہائی اہمیت کا حامل ہے جو کہ کریڈٹ کارڈ کی پچھلی جانب کارڈ کے اعداد کے آخر میں لکھا ہوتا ہے۔ بینک کی جانب سے ہدایت ہوتی ہے کہ یہ اعداد نوٹ کرنے کے بعد اسے کارڈ پر سے اسکریچ کر دیں تاکہ پڑھنے کے قابل نہ رہیں۔ اگر آپ کا کارڈ خدانخواستہ چوری یا گم ہو جائے تو ان تینوں تفصیلات کو استعمال کرتے ہوئے کوئی بھی باآسانی آن لائن خریداری کر سکتا ہے۔
credit-card-terminals
اگر کارڈ گم یا چوری نہیں ہوا تو پھر ہیکر کریڈٹ کارڈ کی معلومات تک کیسے پہنچتے ہیں؟ تو اس سوال کا جواب بہت ہی آسان ہے۔ دراصل خود کریڈٹ کارڈ صارفین اپنی یہ معلومات بانٹتے پھرتے ہیں۔ جب کسی جگہ شاپنگ کرنے کے بعد یا گاڑی میں ایندھن بھروانے کے بعد ادائیگی کے لیے آپ بے فکر ہو کر اپنا کارڈ دکاندار کو تھما دیں گے تو سوچیں پہلا خطرہ تو یہیں سے شروع ہو گیا۔ اگر کارڈ کی معلومات نوٹ کر لی جائیں جو کہ صرف ایک منٹ کی کارروائی ہے۔ اسکمنگ (Skimming) کہلانے والی یہ تکنیک دنیا بھر میں استعمال کی جاتی ہے۔ اس طریقے میں کریڈٹ کارڈ کی معلومات کاغذ پر نوٹ کرکے ، کریڈٹ کارڈ کی فوٹو کاپی کرکے یا Skimmer مشین کے ذریعے چرائی جاتی ہیں۔ Skimmer مشین ایک الیکٹرانک آلہ جو کہ پوائنٹ آف سیل (جس پر کریڈٹ کارڈ کو رگڑا یا سوائپ کیا جاتا ہے) جیسی ایک مشین ہوتی ہے۔ اس پر جب کسی کریڈٹ کارڈ کو سوائپ کیا جاتا ہے تو یہ اس کی معلومات کو ریکارڈ کرلیتا ہے۔ مثلاً اسٹور پر آپ نے گھر کا راشن لینے کے بعد ادائیگی کے لیے اپنا کارڈ پیش کیا، دکاندار نے بخوشی کارڈ لیا اور ایک مشین پر آزمایا۔ مشین نے کارڈ قبول نہیں کیا، اس نے پاس پڑی دوسری مشین پر آزمایا اور کارڈ چل گیا، آپ نے رسید پر دستخط کر کے دکاندار کے حوالے کی اور اپنا سامان لے کر گھر چلے گئے۔ اسکمنگ کے لیے اسی طرح کے مختلف حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔ بظاہر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ایک مشین نہ چلی لیکن دوسری چل گئی۔ حالانکہ اس اضافی مشین کو کریڈٹ کارڈ کی تفصیلات نوٹ کرنے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
skimmer-device
قانونی طور پر تمام ویب سائٹس جہاں کریڈٹ کارڈ قبول کیا جاتا ہے، اس بات کی پابند ہوتی ہیں کہ وہ صارفین کے کریڈٹ کارڈز کی معلومات اپنے پاس محفوظ نہ رکھیں اور اگر ایسا کرنا ضروری ہو تو صارف کے علم میں لا کر یہ عمل کیا جائے۔ کئی آن لائن اسٹور ایسے بھی ہیں جو کہ ہیکرز کے بنائے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ آن لائن اسٹور بظاہر کسی عام اسٹور کی طرح کام کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ کریڈٹ کارڈز کی معلومات چرانے کا کام بھی کررہے ہوتے ہیں۔ بعض اوقات یہ کام اسٹور مالکان کی مرضی کے خلاف ہورہا ہوتا ہے اور بعض اوقات ان کی مرضی سے۔

چوری شدہ کریڈٹ کارڈز کی فروخت

چوری شدہ کریڈٹ کارڈز کی تفصیلات بیچنے کا کاروبارہ کافی پھیل چکا ہے۔ ایسے کریڈٹ کارڈ جن کی زیادہ سے زیادہ درست معلومات دستیاب ہو، 100 ڈالر تک میں فروخت ہوتے ہیں۔ جیسے کہ ہم نے بتایا کہ کریڈٹ کارڈ سے آن لائن خریداری کے لیے صرف تین چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے لیکن کریڈٹ کارڈ کے حوالے سے جتنی زیادہ درست معلومات موجود ہو گی، جیسے کہ صارف کا ایڈریس و فون نمبر، کریڈٹ کارڈ اتنا ہی مہنگے داموں بِکتا ہے۔ یہ اضافی معلومات آن لائن خریداری کے دوران چوری کی جاتی ہیں۔ کیونکہ اکثر ویب سائٹس پر خریداری کے لیے آپ کو یہ دیگر معلومات بھی تصدیق کے لیے فراہم کرنی ہوتی ہیں تاکہ پتا چل سکے آپ اپنا ہی کارڈ استعمال کر رہے ہیں۔ اس طرح کریڈٹ کارڈ تفصیلات چوری کرنے والے زیادہ تر انھیں خود استعمال نہیں کرتے تاکہ ان کی ساکھ برقرار رہے لیکن انھیں بیچ کر ضرور کچھ پیسے بنا لیتے ہیں۔ اس بے ایمانی کے دھندے میں ایمانداری عروج کی ہوتی ہے۔ چوری شدہ کارڈ بیچنے والے مکمل یقین دہانی کراتے ہیں کہ کارڈ درست اور کارآمد ہے لیکن اگر کارڈ بلاک ہو چکا ہو تو اس کے بدلے نیا کارڈ نمبر فراہم کیا جاتا ہے۔
سیاہ ویب (ڈارک ویب) کا ایک بڑا حصہ اسی مقصد کے لئے مخصوص ہے۔ سیاہ ویب انٹرنیٹ کا وہ خفیہ حصہ ہے جو کسی سرچ انجن کی دسترس میں نہیں۔ ان کے بارے میں گوگل پتا لگا پاتا ہے نہ بِنگ۔ SilkRoad نامی ویب سائٹ جو کہ اب بند کی جاچکی ہے، اس کام کے لئے خاصی مقبول تھی۔ لیکن سلک روڈ اس کی صرف ایک مثال ہے، ایسی ہزاروں ویب سائٹس موجود ہیں جو کہ اس کام میں ملوث ہیں۔ لیکن ایسی ویب سائٹس کے ایڈریس آپ کو کسی ہیکر یا ان ویب سائٹس کے صارفین سے مل سکتے ہیں، کسی سرچ انجن سے نہیں۔ یہ ویب سائٹس عموماً onion رائوٹنگ استعمال کرتی ہیں اور انہیں ملاحظہ کرنے کے لئے Tor برائوزر درکار ہوتا ہے۔ ٹور برائوزر ایک پیچیدہ نیٹ ورک ہے اور اس کے ذریعے ہونے والی حرکات و سکنات کے ماخذ تک پہنچنا بہت ناممکن نہ سہی لیکن بے حد مشکل اَمر ہے۔
کریڈٹ کارڈ چوری کرنے کے بعد اس بات کی تصدیق کے لئے کہ آیا کریڈٹ کارڈ چل رہا ہے کہ نہیں، ایک دلچسپ ترکیب استعمال کی جاتی ہے۔ ہیکرز مختلف رفاعی اداروں کی ویب سائٹس جو کریڈٹ کارڈ کے ذریعے امداد قبول کرتی ہیں ، چوری شدہ کریڈٹ کارڈ سے ان پر 1سے 2 ڈالر کی ’’امداد‘‘ دیتے ہیں۔ اس سے دو فائدے ہوتے ہیں، پہلا کریڈٹ کارڈ کی تصدیق ہوجاتی ہے کہ آیا وہ چل رہا ہے کہ نہیں۔ دوسرا چونکہ چارج کی گئی رقم بہت معمولی ہوتی ہے کہ تو کریڈٹ کارڈ مالک بھی اسے بیشتر مواقع پر نظر انداز کرتے ہوئے رپورٹ نہیں کرتا۔ اس طرح کریڈٹ کارڈ بلاک ہونے سے بھی بچ جاتا ہے۔ تیسرا فائدہ ، معمولی ہی سہی، لیکن رفاعی ادارے کو ہوتا ہے کہ انہیں امداد مل جاتی ہے۔

چوری شدہ کریڈٹ کارڈز کا محفوظ استعمال

چوری شدہ کریڈٹ کارڈ نمبرز کا استعمال کرتے ہوئے ہیکرز زیادہ تر ایسی چیزیں خریدتے ہیں جنھیں وصول کرنا آسان اور بے نشان ہو۔ مثلاً ایسے واؤچرز یا گفٹ کارڈز (مثلاً ایمزون گفٹ کارڈز ) جن سے آگے مزید شاپنگ کی جا سکے، سافٹ ویئر کے لائسنس وغیرہ۔ یہ ایسی چیزیں ہیں جن کے حصول کے لئے انتظار نہیں کرنا پڑتا۔ اِدھر ہیکر نے درست کریڈٹ کارڈ نمبر فراہم کیا، اُدھر لائسنس یا گفٹ وائوچر اِن کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ اب ہیکرز کرتے یہ ہیں کہ سافٹ ویئر کا لائسنس کسی اور کو سستے داموں فروخت کردیتے ہیں۔ گفٹ کارڈز یا وائوچرز بھی کیش کی دوسری شکل ہیں۔ زیادہ تر کریڈٹ کارڈ چور گفٹ کارڈ خریدنے کے بعد ان سے الیکٹرانکس اشیاء جیسے کہ موبائل فون، کمپیوٹر، گیم کنسول، ٹیبلٹس وغیرہ خریدتے ہیں۔ یہ ایسی اشیاء ہیں جو فوراً فروخت ہوجاتی ہیں اور ان کی قیمت بھی اچھی مل جاتی ہے۔ کچھ ہیکرز اس سے مختلف طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ یہ انڈر گرائونڈ ویب سائٹ جو کہ ڈارک ویب کا حصہ ہیں، پر قیمتاً ایسے افراد کی خدمات حاصل کرتے ہیں جو کہ اپنے پتے پر ارسال کیا گیا پیکٹ واپس ہیکر کے پتے پر ارسال کردیتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے فری لائنسنگ ویب سائٹس بھی استعمال کی جاتی ہیں جہاں معصوم اور بھولے بھالے لوگ ان ہیکرز کی چکنی چپڑی باتوں میں آجاتے ہیں اور کچھ پیسوں کے عوض ہیکرز کو اپنا ایڈریس استعمال کرنے دیتے ہیں۔
ہیکرز یہ سب اپنی شناخت چھپانے کے لئے کرتے ہیں اور اسی کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ان چوروں تک پہنچنا کافی مشکل ہو جاتا ہے۔ایک تکنیک ہیکرز یہ بھی اختیار کرتے ہیں کہ چوری شدہ کریڈٹ کارڈز کے ذریعے وہ اپنے پری پیڈ ڈیبٹ کارڈز میں پیسے ڈلواتے ہیں اور پھر اس ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے آن لائن خریداری کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ اتنے بڑے پیمانے پر ہورہا ہے کہ اس کی وجہ سے ہر سال اربوں ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔
آن لائن فروخت کی ویب سائٹس ان تمام باتوں سے باخبر ہیں اس لیے وہ اپنی پوری کوشش کرتی ہیں کہ خریدار کی چھان بین کریں۔ کچھ ویب سائٹس کریڈٹ کارڈ چارج کرنے سے پہلے صارف کو فون کرکے تصدیق کرتی ہیں۔ ایک دفعہ چوری شدہ رپورٹ ہونے والے کارڈز کو یہ ہمیشہ کے لیے بلاک کر دیتے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چوری شدہ کارڈ سے ادا کی گئی رقم کا نقصان کس کو ہوتا ہے؟
یہ بات خاصی دلچسپ ہے کہ کریڈٹ کارڈ مالک کو کارڈ چوری اور اس کے نتیجے میں ہونے والا نقصان نہیں برداشت کرنا پڑتا۔ مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ نقصان بینک کا بھی نہیں ہوتا جس نے کریڈٹ کارڈ کے عوض مرچنٹ (Merchant) کو رقم ادا کی ہے۔ نقصان سارا مرچنٹ کا ہوتا ہے، اسے اُس چیز کی قیمت بھی نہیں ملتی جو اس سے خریدی گئی ہے اور مرچنٹ جس بینک کا پوائنٹ آف سیل یا پیمنٹ گیٹ وے استعمال کررہا ہوتا ہے، وہ بینک بھی مرچنٹ سے ’’چارج بیک‘‘ کے نام پر رقم وصول کرتا ہے۔ تاہم ہر بار ایسا نہیں ہوتا۔ اگر کریڈٹ کارڈ مالک یہ بات ثابت کرنے میں ناکام ہوجائے کہ اس نے خریداری نہیں کی تو پھر نقصان اسے ہی برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ذہنی کوفت ، وقت کا ضیاع اور جھنجلاہٹ رقم کے نقصان کے علاوہ ہیں جو صارف کو برداشت کرنی پڑتی ہیں۔
اگر آپ سمجھ رہے تھے کہ یہ سب بیرون ممالک کی کہانیاں ہیں تو آپ غلط ہیں۔ یہ سب کچھ پاکستان میں بھی جاری ہے۔ جیسا کہ ہم نے بتایا کہ کریڈٹ کارڈ کہیں کابھی ہو کہیں بھی استعمال ہو سکتا ہے تو پاکستان میں بھی یہ فراڈز جاری ہیں۔ چوری شدہ پاکستانی کریڈٹ کارڈز بھی بین الاقوامی بلیک مارکیٹ میں بکتے ہیں۔ اگرچہ ان کی تعداد خاصی کم ہے لیکن ہے ضرور۔ نیز، پاکستان میں موجود ہیکرز بھی اس بہتی گنگا میں خوب ہاتھ دھوتے ہیں۔ چونکہ پاکستان میں قانون کی عمل داری اور خاص طور پر ڈاک کا نظام کسی تعارف کا محتاج نہیں، اس لئے پاکستانی Scammers بلیک مارکیٹ سے خریدے گئے کریڈٹ کارڈز کو دھڑلے سے استعمال کرتے ہیں اور ایسی مصنوعات پاکستان میں منگواتے ہیں جو کہ یہاں با آسانی فروخت ہوجاتی ہیں۔ چونکہ ایسی مصنوعات پاکستان میں بذریعہ غیر رجسٹرڈ ڈاک منگوائی جاتی ہیں اس لئے ان کی ڈیلیوری کا ریکارڈ بھی مرتب نہیں ہوتا۔ یہاں محکمہ ڈاک کے ملازمین اور کسٹم حکام سے گٹھ جوڑ کرکے اشیاء حاصل کرلی جاتی ہیں۔ ماضی میں پاکستان سے کریڈٹ کارڈ کے ذریعے فراڈ کرنے والے بڑے بڑے گروہ پکڑے گئے ہیں لیکن یہ سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔

کریڈٹ کارڈ چوری کا سدباب

سائبر کرائمز سے نمٹنے کے لیے کوششیں عرصے سے جاری ہیں، لیکن فراڈ کے نت نئے ذرائع بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔ کریڈٹ کارڈ فراڈ سے بچنے کے لیے آپ کوشش کریں کہ اپنی ذاتی معلومات کسی کو مت دیں۔ جب تک بینک کے کاروباری نمبروں سے کال نہ آئے، فون پر کسی کو بھی اپنے بارے میں کوئی معلومات مت فراہم کریں۔ بینک کی جانب سے ہر ماہ ارسال کی جانے والی کریڈٹ کارڈ اسٹیٹمنٹ کا بغور مطالعہ کریں اور کسی بھی ایسی ٹرانزیکشن جو کہ آپ نے نہیں کی، کے بارے میں فوراً بینک کو مطلع کریں۔
جب بھی اپنا کریڈٹ کارڈ آپ کسی مرچنٹ پر چارج کروائیں تو اس بات کا خیال رکھیں کہ مرچنٹ آپ کے سامنے ہی کارڈ کو چارج کرے۔ عام طور پر کریڈٹ کارڈ سے کی گئی ہر خریداری کی فوری اطلاع بذریعہ ایس ایم ایس بھی صارف کو موصول ہوجاتی ہے۔ اس سہولت کو ضرور زیرِاستعمال رکھیں اور وہی نمبر استعمال کریں جو ہر وقت آن ہو۔کریڈٹ کارڈ فراڈ سے اپنے صارفین کو بچانے کے لئے پاکستانی بینک کریڈٹ کارڈ کو اس وقت تک انٹرنیٹ پر استعما ل کے قابل نہیں بناتے جب تک صارف انہیں فون کرکے خود ایسا کرنے کو نہ کہیں۔ عموماً اس کے لئے Session کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ صارف جب چاہے سیشن کو بند بھی کرواسکتا ہے تاکہ کوئی بھی اس کے کارڈ کو انٹرنیٹ پر استعمال نہ کرسکے۔
اگر آپ کو کسی خریداری کی اطلاع ملے جو کہ آپ نے نہیں کی تو پریشان ہوئے بنا اپنے بینک سے رابطہ کر کے اس کی شکایت درج کروائیں۔ بینک اس سلسلے میں آپ کی مدد کرنے کے پابند ہیں۔ ایسے مرچنٹس پر اپنے کریڈٹ کارڈ کو چارج کرنے سے گریز کریں جن کی شہرت اچھی نہ ہو۔ ٭٭٭

فیس بک اور ای میل اکاؤنٹ کیسے ہیک ہوتے ہیں؟

فیس بک اور ای میل اکاؤنٹ کیسے ہیک ہوتے ہیں؟
آپ نے اپنے دوست احباب سے ضرور سنا ہو گا کہ ان کا کوئی اکاؤنٹ ہیک ہو گیا، یا ہو سکتا ہے یہ حادثہ آپ کے ساتھ بھی پیش آ چکا ہو۔ لیکن یہ ہیکنگ ہوتی کیسے ہے؟ کون ایسے کمپیوٹر ماہرین ہیں جو کمال مہارت سے دوسروں کے اکاؤنٹس میں گھس کر انھیں ہیک کر لیتے ہیں؟
جب کمپیوٹنگ کے فیس بک صفحے اور ای میل پر ہیکنگ سکھانے کی بے شمار درخواستیں موصول ہوتی ہیں تو یقین جانیں مجھے تو افسوس ہی ہوتا ہے۔ کیونکہ ان ہیکنگ سیکھنے کے خواہشمند افراد کا مقصد صرف دوسروں کے ای میل اور فیس بک اکاؤنٹس ہیک کرنا ہوتا ہے۔ اپنی اسی خواہش کو پورا کرنے کے لیے وہ انٹرنیٹ پر موجود ایسے ٹولز آزماتے رہتے ہیں جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ فیس بک اکاؤنٹ وغیرہ ہیک کر دیتے ہیں، لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا۔
آج تک میں کئی لوگوں کو ان کے ہیک شدہ اکاؤنٹس واپس دِلا چکا ہوں اور ہمیشہ یہی نتیجہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ جس کا اکاؤنٹ ہیک ہوا وہ اس کی اپنی غلطی سے ہوا۔ یاد رکھیں کہ آپ صرف اور صرف اپنی کم علمی کی وجہ سے اپنا اکاؤنٹ ہیک کرواتے ہیں اور دوسرے صرف اور صرف معلومات ہونے کی وجہ سے اکاؤنٹس ہیک کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
اس مضمون میں ہم انہی سادہ اور عام سی باتوں پر روشنی ڈالیں گے کہ اکاؤنٹس کیوں اور کیسے ہیک ہوتے ہیں۔

پاس ورڈز

Top Ten Common Passwords
دس عام ترین استعمال ہونے والے پاس ورڈز
اکثر لوگ نہ صرف کمزور پاس ورڈ استعمال کرتے ہیں بلکہ ایک ہی پاس ورڈ ایک سے زیادہ اکاؤنٹس کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ اور اپنے لیک پاس ورڈ دوبارہ استعمال کرنا تو سمجھیں ہیکر کو دعوت دینے والی بات ہے۔ گزشتہ سالوں میں بڑی سے بڑی ویب سائٹس جیسے کہ لنکڈاِن اور یاہو وغیرہ کے پاس ورڈ ڈیٹا بیس لیک ہو چکے ہیں۔ اس لیے ہر اکاؤنٹ کے لیے الگ پاس ورڈ استعمال کریں اور ایسا پاس ورڈ جس پر آپ کو ذرا سا بھی شک ہو کہ وہ کسی کو معلوم ہے بالکل مت استعمال کریں۔ پاس ورڈ میں ہمیشہ نمبرز اور اسپیشل کیریکٹرز شامل رکھیں تاکہ انھیں کریک کرنا انتہائی مشکل ہو جائے۔
اگر کسی کام کے سلسلے میں کسی کو اپنا پاس ورڈ دینا پڑ بھی جائے تو کام مکمل ہونے کے فوراً بعد پاس ورڈ بدل لیں۔ بلکہ ہر دو تین ماہ بعد اپنا پاس ورڈ اپ ڈیٹ کرتے رہیں۔
یاہو! کا پاس ورڈ ڈیٹا بیس لیک ہونے پر پتا چلا کہ ہزاروں لوگ یہ سادہ سے پاس ورڈ ز استعمال کر رہے تھے:
password, welcome, qwerty, monkey, jesus, lovemoney, freedom, ninja, writer

کی لوگرز

کی لوگرز ایسے پروگرامز ہوتے ہیں جو کی بورڈ پر ٹائپ کیے گئے تمام الفاظ کو نوٹ کرتے رہتے ہیں۔ اپنے سسٹم پر ان سے بچنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ کوئی اچھا اینٹی وائرس استعمال کریں اور اسے ہمیشہ اپ ڈیٹڈ رکھیں۔
جب کہ پبلک مقامات اور دوسروں کے کمپیوٹرز پر لاگ اِن کرتے ہوئے احتیاط سے کام لیں۔ صرف قابل بھروسا جگہوں پر ہی اپنے ذاتی اکاؤنٹس استعمال کریں۔ لاگ ان کرتے ہوئے کبھی بھی وہاں اپنا پاس ورڈ محفوظ مت کریں اور لاگ آؤٹ کرنا بھی مت بھولیں۔

فشنگ

یہ بھی پاس ورڈ چُرانے کا ایک خطرناک طریقہ ہے۔ اکاؤنٹ ہیک وغیرہ ہو جائے تو کم از کم آپ کو علم ہوتا ہے کہ آپ کا اکاؤنٹ آپ کے اختیار میں نہیں رہا۔ لیکن فشنگ کے ذریعے جب کوئی آپ کا پاس ورڈ حاصل کر لے تو وہ آپ کے اکاؤنٹس میں لاگ اِن ہو سکتا ہے اور آپ کو پتا بھی نہیں چلتا۔
اسے اس طرح مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ آپ کو فیس بک پر کوئی پیغام یا میل باکس میں کوئی ای میل موصول ہوتی ہے، جس میں کوئی لنک موجود ہوتا ہے۔ آپ اس لنک پر جاتے ہیں تو فیس بک، ہاٹ میل یا جی میل وغیرہ کا صفحہ کھل جاتا ہے۔ آپ لاگ اِن ہو جاتے ہیں اور یہیں آپ کا پاس ورڈ ہیکر تک پہنچ جاتا ہے۔ دراصل آپ جس صفحے پر لاگ اِن ہو رہے ہوتے ہیں وہاں اگر آپ یو آر ایل بار پر غور کریں تو وہ فیس بک یا جی میل کا ایڈریس نہیں ہو گا، بلکہ وہ کوئی اسپیم یوآر ایل ہو گا لیکن پیج فیس بک یا جی میل کا ہو گا۔
دراصل اس میں بالکل ایک جیسے ڈیزائن کا صفحہ استعمال کیا جاتا ہے جس سے لوگ بے وقوف بن جاتے ہیں۔ ان کی لاگ اِن ڈیٹیلز چوری ہو جاتی ہیں اور انھیں پتا بھی نہیں چلتا۔ اس مسئلے سے بچنے کے لیے کسی لنک سے کھلنے والے صفحے پر یو آر ایل ضرور غور سے دیکھ لیں۔

سیکیورٹی کوئسچن

کسی بھی ای میل اکاؤنٹ کے ہیک ہونے میں سیکیورٹی کوئسچن کا بہت بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔ میں ہمیشہ کہتا ہوں زیادہ تر لوگوں کے اکاؤنٹس انھیں جاننے والے ہی ہیک کرتے ہیں۔ فرض کریں کہ میرا سیکیورٹی سوال ہے ’’میرا بچپن کا بہترین دوست کون ہے؟‘‘ تو ظاہر سی بات ہے اس کا جواب میرے جاننے والے لوگ باآسانی بوجھ سکتے ہیں۔
لیکن یہاں غلطی میری اپنی ہے اگر میں یہاں درست معلومات درج کر دوں۔ یہ کوئی امتحان کا سوال تو ہے نہیں کہ درست جواب دینے پر مجھے نمبرز ملیں گے اور غلط جواب دینے پر مجھے فیل کر دیا جائے گا۔ بلکہ یہاں بات میری اپنی سیکیورٹی کی ہے۔ اگر جواب میں دوست کی بجائے دشمن کا نام، یا حتیٰ کہ کسی دوسری چیز کا نام مثلاً کافی کپ، ہیلی کاپٹر ، کرکٹ یا کوئی بے معنی لفظ بھی لکھ دوں تو ای میل سروس کو اس سے کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔
اس لیے سیکیورٹی کوئسچنز کے جواب لکھتے ہوئے ہمیشہ خیال رکھیں۔ ایسے جواب لکھیں جنھیں آپ کے علاوہ کوئی تُکا لگا کر بھی نہ بوجھ سکے۔ اگر آپ نے بھی درست جواب دے رکھے ہیں تو انھیں فوراً بدل لیں۔

موبائل فون نمبر

آج کل تقریباً ہر بڑی ای میل سروس اور فیس بک اکاؤنٹ میں اپنا موبائل فون نمبر شامل کیا جا سکتا ہے۔ تاکہ اگر خدانخواستہ آپ کے اکاؤنٹ کے ساتھ کوئی مسئلہ ہو جائے تو فون نمبر استعمال کرتے ہوئے اکاؤنٹ واپس حاصل کیا جا سکے۔
اس لیے اپنے اکاؤنٹ میں فون نمبر ضرور شامل رکھیں اور ایسا نمبر شامل رکھیں جو آپ ہی کے پاس موجود ہو۔ اگر آپ اپنا نمبر بدلیں تو اپنے اکاؤنٹ میں بھی اسے بدلنا مت بھولیں۔

متبادل ای میل

اکثر ایسا تجربہ ہوا کہ لوگوں نے اپنے اکاؤنٹس میں متبادل ای میل کے طور اپنا کوئی دوسرا ای میل ایڈریس ہی شامل نہیں کر رکھا ہوتا۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی دوسرے سے اکاؤنٹ بنوا لیا اور استعمال کرنا شروع کر دیا۔ پھر ایک دن ایسا ہوتا ہے کہ اکاؤنٹ اچانک سے ہیک۔ اپنے اکاؤنٹ میں درست متبادل ای میل ایڈریس شامل رکھنا بھی ضروری ہے تاکہ پاس ورڈ ری سیٹ کرنے کی درخواست اس پر موصول کی جا سکے۔

ویب براؤزرز میں محفوظ پاس ورڈ

ہر ویب براؤزر آپ کو دعوت دیتا ہے کہ اپنا پاس ورڈ اس میں محفوظ کر دیں تاکہ بار بار اسے ٹائپ نہ کرنا پڑے۔براؤزرز آپ کے پاس ورڈ پلین ٹیکسٹ میں محفوظ رکھتے ہیں۔ یا تو پاس ورڈ محفوظ نہ رکھیں یا ان تمام پاس ورڈز پر ایک ماسٹر پاس ورڈ ضرور لگائیں۔ جیسے کہ فائرفوکس میں یہ فیچر دستیاب ہے۔

اختتامیہ

فیس بک اور دیگر ای میلز سروسز کی سیکیورٹی انتہائی سخت ہے۔ آج سے چند سال پہلے جیسی صورت حال تھی اب ایسا نہیں ہے۔ کسی کا بھی اکاؤنٹ ہیک کرنا کوئی آسان بات نہیں رہا۔ جیسا کہ آپ نے اس مضمون میں پڑھا کہ آپ خود کوئی چور راستہ چھوڑ دیتے ہیں، جسے استعمال کرتے ہوئے کوئی آپ کا اکاؤنٹ لے اُڑتا ہے اور آپ سمجھتے ہیں کسی ماہر ہیکر نے آپ کا پاس ورڈ اُڑا لیا۔

مائیکروسافٹ آفس یا کسی بھی ورڈ پراسیسر کے بغیر سی وی کیسے بنائیں؟

مائیکروسافٹ آفس یا کسی بھی ورڈ پراسیسر کے بغیر سی وی کیسے بنائیں؟
ایک پروفیشنل ریسومی ﴿ سی وی ﴾ بنانے کے لیے آپ کو کسی مائیکروسافٹ آفس کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس کام کے لیے گوگل ڈاکس ہی کافی ہے، جس میں کئی خوبصورت اور پروفیشنلز ٹیمپلیٹس مفت موجود ہیں۔
اگرچہ مائیکروسافٹ آفس بھی آن لائن ’’آفس ویب ایپس‘‘ کی صورت میں دستیاب ہے لیکن اس میں محدود ٹیمپلیٹس ہیں جبکہ ریسومی کا تو ٹیمپلیٹ ہی موجود نہیں۔ اس کے علاوہ فارمیٹنگ وغیرہ بھی خود ہی کرنی پڑتی ہے۔
اس کام کے لیے گوگل ڈاکس بہت ہی آسان اور تیز طریقہ ہے۔ گوگل کی دیگر کئی سروسز کی طرح گوگل ڈاکس بھی مفت دستیاب ویب ایپلی کیشن ہے۔ گوگل ڈاکس اب گوگل ڈرائیو کا حصہ ہے جو کہ گوگل کی آن لائن فائل اسٹوریج سروس ہے۔
گوگل ڈاکس کو اپنا انتخاب بنانے کی ہماری وجہ اس میں موجود ٹیمپلیٹس ہیں۔ مائیکروسافٹ آفس میں ایک صفحے کی ہی سی وی بناتے ہوئے آپ پریشان ہو جائیں گے، کیونکہ اس میں کتنی ہی فارمیٹنگ کرنی پڑتی ہے۔ جبکہ یہی کام گوگل ڈاکس پر کرتے ہوئے آپ کو صرف اپنے کوائف کا اندراج کرنا ہے اور سی وی تیار ہو جائے گی۔
گوگل ڈاکس ٹیمپلیٹ گیلری میں جانے کے لیے درج ذیل یوآر ایل ملاحظہ کریں:
https://drive.google.com/templates?view=public#
ٹیمپلیٹس استعمال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ پہلے اپنی جی میل آئی ڈی سے لاگ اِن ہو جائیں۔ اگر آپ کے پاس آئی ڈی نہیں ہے تو یہ بھی مفت بنائی جا سکتی ہے۔
گوگل ڈاکس کی ٹیمپلیٹ گیلری میں جائیں اور Resume لکھ کر سرچ کریں۔ کئی مفت ٹیمپلیٹس آپ کے سامنے موجود ہوں گے۔
resume
ابتدائی سات ٹیمپلیٹس کے آگے لکھے By Google Docs کا مطلب ہے کہ یہ ٹیمپلیٹس گوگل نے خود تیار کر کے آپ کے لیے مفت فراہم کر رکھے ہیں۔
کسی بھی ٹیمپلیٹ کا مکمل ڈیزائن دیکھنے کے لیے اس کے سامنے موجود Preview پر کلک کریں۔
جو ٹیمپلیٹ آپ کو پسند آئے اور اسے آپ سی وی بنانا چاہیں تو اس کے آگے موجود Use this template کے بٹن پر کلک کریں۔
گوگل ڈاکس فوراً ہی اس ٹیمپلیٹ کو استعمال کرتے ہوئے آپ کے لیے نیا ڈاکیومنٹ پیش کر دے گا۔
resume2
اب اس میں تدوین کرنا بہت ہی آسان ہے۔ اپنے تمام کوائف کا اس میں اندراج کر دیں۔ ڈاکیومنٹ کو محفوظ کرنے کے معاملے میں بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ گوگل ڈاکس آپ کی ہر تبدیلی کو خودکار طریقے سے محفوظ کرتا جائے گا۔ یہ فائل آپ کے گوگل ڈرائیو اکاؤنٹ میں محفوظ ہو جائے گی۔ جسے دیکھنے کے لیے آپ اس ربط پر جائیں:
drive.google.com
ریسومی مکمل ہو جانے کے بعد اسے گوگل ڈاکس سے ڈاؤن لوڈ کرنا ہو گا۔اگر آپ اسے براہِ راست پرنٹ کرنا چاہیں تو فائل مینو میں سے پرنٹ پر کلک کریں۔ پرنٹنگ کے لیے براؤزر کا پرنٹ آپشن مت سلیکٹ کریں، ورنہ پورا ویب پیج پرنٹ ہو جائے گا۔
اور اگر آپ کو فائل ای میل کرنے کے لیے ڈاؤن لوڈ کرنی ہو تو فائل مینو میں سے Download as پر کلک کریں اور اپنا مطلوبہ فارمیٹ جیسے کہ ڈاک یا پی ڈی ایف وغیرہ سلیکٹ کر کے فائل ڈاؤن لوڈ کر لیں۔